مختلف زبانوں کی گرامر سمجھنے کی آسان رہنمائی
گرامر اکثر جتنی پیچیدہ محسوس ہوتی ہے، حقیقت میں اتنی ہوتی نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم جملے کی مختلف سطحوں کے لیے الگ الگ نام استعمال کرتے ہیں، مگر ہمیشہ یہ نہیں بتاتے کہ ان سطحوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
اسم اور فاعل ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
فعل لازماً جملے کی پوری خبر نہیں ہوتا۔
صفت ہمیشہ اسم سے فوراً پہلے نہیں آتی۔
اور جملے کا فاعل ہمیشہ وہ شخص نہیں ہوتا جو جان بوجھ کر کوئی کام کر رہا ہو۔
اچھی بات یہ ہے کہ ایک سادہ سا فرق سمجھ لینے سے گرامر کی بہت سی وضاحتیں کہیں زیادہ آسان ہو جاتی ہیں۔
کسی لفظ یا ترکیب کو دیکھتے وقت خود سے دو الگ سوال پوچھیں:
یہ کس قسم کا جز ہے؟
اور:
یہ اس جملے میں کیا کام کر رہا ہے؟
پہلا سوال اجزائے کلام کے بارے میں ہے، جنہیں الفاظ کی اقسام بھی کہا جاتا ہے۔
دوسرا سوال جملے میں کردار یا نحوی کام کے بارے میں ہے۔
ان دونوں کا آپس میں تعلق ہے، مگر یہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
پہلی سطح: لفظ کس قسم کا ہے؟
کسی زبان میں الفاظ کے استعمال اور ان کی خصوصیات کی بنیاد پر انہیں مختلف گروہوں میں رکھا جا سکتا ہے۔
روایتی طور پر ان گروہوں کو اجزائے کلام کہا جاتا ہے۔
آپ شاید ان میں سے بہت سی اقسام سے پہلے ہی واقف ہوں۔
دونوں سطحیں ایک نظر میں
تفصیل میں جانے سے پہلے دونوں سطحوں کو ساتھ ساتھ دیکھنا مفید ہوگا۔
الفاظ کی اقسام: یہ کس قسم کا جز ہے؟
یہ نام کسی لفظ کی گرامری قسم بتاتے ہیں۔
- اسم: کسی شخص، جگہ، چیز، واقعے یا خیال کا نام بتاتا ہے
Sarah (سارہ)، city (شہر)، book (کتاب)، meeting (اجلاس)، freedom (آزادی) - فعل: کسی کام، واقعے، حالت یا تعلق کو ظاہر کرتا ہے
run (دوڑنا)، call (فون کرنا)، happen (واقع ہونا)، know (جاننا)، be (ہونا) - صفت: کسی خوبی یا خصوصیت کو بیان کرتی ہے
large (بڑا)، interesting (دلچسپ)، tired (تھکا ہوا) - متعلقِ فعل: وقت، جگہ، انداز، تکرار یا درجے کو ظاہر کر سکتا ہے
yesterday (گزشتہ کل)، here (یہاں)، slowly (آہستہ)، often (اکثر)، very (بہت) - ضمیر: کسی شخص یا چیز کا نام دوبارہ لیے بغیر اس کی طرف اشارہ کرتی ہے
I (میں)، she (وہ، مؤنث)، it (وہ، کسی چیز کے لیے)، they (وہ)، someone (کوئی) - تعیین کنندہ: کسی اسم کی شناخت، تعداد یا تخصیص واضح کرنے میں مدد دیتا ہے
a (ایک)، the (مخصوص اسم کی علامت)، this (یہ)، my (میرا)، some (کچھ)، three (تین) - حرفِ جار: جگہ، وقت، سمت یا ساتھ ہونے جیسے تعلق کو ظاہر کرتا ہے
in (میں)، after (کے بعد)، to (کی طرف)، with (کے ساتھ) - حرفِ عطف: الفاظ، ترکیبوں یا فقروں کو جوڑتا ہے
and (اور)، but (لیکن)، because (کیونکہ)، although (اگرچہ)
جملے میں کردار: یہ یہاں کیا کام کرتا ہے؟
یہ نام بتاتے ہیں کہ کوئی لفظ یا ترکیب ایک خاص جملے میں کیا کام کر رہی ہے۔
- فاعل: وہ شخص، چیز یا خیال جس کے بارے میں جملے کی بنیادی بات کہی جاتی ہے
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔) - خبر: وہ بات جو جملے میں فاعل کے بارے میں کہی جاتی ہے
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔) - مفعول: وہ شخص یا چیز جو فعل سے ظاہر ہونے والے واقعے سے براہِ راست متاثر ہو یا اس میں شریک ہو
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔) - تکملہ: فاعل، مفعول یا جملے کے کسی اور حصے کا مفہوم مکمل کرتا ہے یا اس کی شناخت واضح کرتا ہے
Daniel is a teacher. (ڈینیئل ایک استاد ہے۔)
Sarah seems tired. (سارہ تھکی ہوئی لگتی ہے۔) - توصیفی جز: کسی دوسرے لفظ یا ترکیب کے بارے میں مزید معلومات دیتا ہے
the new student (نیا طالب علم)
the book on the table (میز پر رکھی ہوئی کتاب) - ظرفی جز: وقت، جگہ، انداز، وجہ یا مقصد جیسی معلومات دیتا ہے
Sarah called yesterday. (سارہ نے گزشتہ کل فون کیا۔)
They met in Budapest. (ان کی ملاقات بڈاپسٹ میں ہوئی۔)
بنیادی فرق سادہ ہے:
لفظ کی قسم بتاتی ہے کہ وہ کس نوعیت کا جز ہے۔ جملے میں اس کا کردار بتاتا ہے کہ وہ اس جملے میں کیا کام کر رہا ہے۔
اسم
اسم عموماً لوگوں، جانوروں، جگہوں، چیزوں، واقعات یا خیالات کے نام بتاتے ہیں۔
Sarah (سارہ)، teacher (استاد)، dog (کتا)، London (لندن)، table (میز)، meeting (اجلاس)، freedom (آزادی)
فعل
فعل عموماً کاموں، واقعات، حالتوں یا تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں۔
run (دوڑنا)، call (فون کرنا)، happen (واقع ہونا)، know (جاننا)، exist (موجود ہونا)، be (ہونا)
ہر فعل کسی نظر آنے والے کام کو بیان نہیں کرتا۔
مثلاً اس جملے میں:
Daniel knows the answer. (ڈینیئل جواب جانتا ہے۔)
یہاں knows فعل ہے، اگرچہ ڈینیئل جسمانی طور پر کوئی کام نہیں کر رہا۔
صفت
صفتیں خوبیوں یا خصوصیات کو بیان کرتی ہیں۔
tall (لمبا)، interesting (دلچسپ)، difficult (مشکل)، blue (نیلا)
یہ اکثر اسم سے پہلے آتی ہیں:
an interesting book (ایک دلچسپ کتاب)
لیکن یہ be (ہونا) یا seem (لگنا) جیسے افعال کے بعد بھی آ سکتی ہیں:
The book is interesting. (کتاب دلچسپ ہے۔)
متعلقِ فعل
متعلقِ فعل وقت، جگہ، انداز، تکرار، درجے یا بولنے والے کے رویّے کو ظاہر کر سکتے ہیں۔
yesterday (گزشتہ کل)، here (یہاں)، slowly (آہستہ)، often (اکثر)، very (بہت)، probably (غالباً)
مثالیں:
Sarah arrived yesterday. (سارہ گزشتہ کل پہنچی۔)
Daniel answered slowly. (ڈینیئل نے آہستہ جواب دیا۔)
The answer is probably correct. (جواب غالباً درست ہے۔)
ضمیر
ضمیریں لوگوں یا چیزوں کے نام دوبارہ لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
I (میں)، you (آپ)، she (وہ، مؤنث)، he (وہ، مذکر)، it (وہ، کسی چیز کے لیے)، we (ہم)، they (وہ)، someone (کوئی)
یہ نام بار بار دہرانے کے بجائے:
Sarah called Daniel. Sarah spoke to Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔ سارہ نے ڈینیئل سے بات کی۔)
ہم کہہ سکتے ہیں:
Sarah called Daniel. She spoke to him. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔ اس نے اس سے بات کی۔)
تعیین کنندہ
تعیین کنندہ یہ واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ ہماری مراد کون سی چیز ہے، کتنی چیزیں ہیں یا وہ کس کی ہیں۔
a (ایک)، the (مخصوص اسم کی علامت)، this (یہ)، those (وہ)، my (میرا)، every (ہر)، some (کچھ)
مثالیں:
the book (وہ مخصوص کتاب)
my phone (میرا فون)
those students (وہ طلبہ)
حروفِ جار
حروفِ جار جگہ، وقت، سمت، ذریعے اور بہت سے دوسرے تصورات سے متعلق رشتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
in (میں)، on (پر)، at (پر یا میں)، with (کے ساتھ)، from (سے)، to (کی طرف)، after (کے بعد)
مثالیں:
in the room (کمرے میں)
after lunch (دوپہر کے کھانے کے بعد)
with Daniel (ڈینیئل کے ساتھ)
حروفِ عطف
حروفِ عطف الفاظ، ترکیبوں یا مکمل خیالات کو جوڑتے ہیں۔
and (اور)، but (لیکن)، or (یا)، because (کیونکہ)، although (اگرچہ)
مثال:
Sarah stayed home because she was tired. (سارہ گھر پر رہی کیونکہ وہ تھکی ہوئی تھی۔)
یہ اقسام بتاتی ہیں کہ کوئی لفظ کس نوعیت کا گرامری جز ہے۔
لیکن ان سے ابھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لفظ کسی خاص جملے میں کیا کام کر رہا ہے۔
دوسری سطح: یہ کیا کام کرتا ہے؟
اب اس جملے پر غور کریں:
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
ہم اس کے الفاظ کی اقسام یوں بتا سکتے ہیں:
- Sarah اسمِ خاص ہے؛
- called فعل ہے؛
- Daniel اسمِ خاص ہے۔
لیکن ہم ان کے کردار بھی بیان کر سکتے ہیں:
- Sarah فاعل ہے؛
- called Daniel مل کر جملے کی بنیادی خبر بناتے ہیں؛
- Daniel مفعول ہے۔
یہ جملے میں ادا کیے جانے والے کردار ہیں، اجزائے کلام نہیں۔
فاعل
فاعل وہ جز ہے جس کے گرد کسی جملے یا فقرے کی نحوی ساخت بنتی ہے۔
اکثر یہ وہ شخص یا چیز ہوتی ہے جو کوئی کام کر رہی ہو:
Sarah opened the window. (سارہ نے کھڑکی کھولی۔)
لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا:
The window opened. (کھڑکی کھل گئی۔)
Daniel is tired. (ڈینیئل تھکا ہوا ہے۔)
Sarah heard a noise. (سارہ نے ایک آواز سنی۔)
کھڑکی جان بوجھ کر کچھ نہیں کر رہی۔ ڈینیئل کی حالت بیان کی جا رہی ہے۔ سارہ ارادی طور پر سننے کا عمل انجام دینے کے بجائے آواز سننے کا تجربہ کر رہی ہے۔
اس کے باوجود یہ سب نحوی اعتبار سے فاعل ہیں۔
ابتدائی سیکھنے والوں کے لیے یہ تعریف مفید ہے:
فاعل وہ شخص، چیز یا خیال ہے جس کے بارے میں جملے کی بنیادی بات کہی جاتی ہے۔
یہ تعریف ہر زبان کے لیے مکمل طور پر درست نہیں، لیکن یہ کہنا کہ فاعل ہمیشہ ”کام کرتا ہے“، اس کے مقابلے میں کم قابلِ اعتماد ہے۔
خبر
خبر ہمیں فاعل کے بارے میں کچھ بتاتی ہے۔
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
The window opened. (کھڑکی کھل گئی۔)
Daniel is tired. (ڈینیئل تھکا ہوا ہے۔)
Sarah became a doctor. (سارہ ڈاکٹر بن گئی۔)
خبر کسی کام، واقعے، حالت، خصوصیت، شناخت یا تبدیلی کو ظاہر کر سکتی ہے۔
مفعول
مفعول کا فعل سے گہرا تعلق ہوتا ہے، اور اکثر یہ وہ شخص یا چیز ہوتی ہے جو واقعے سے متاثر ہوتی ہے۔
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
Daniel opened the window. (ڈینیئل نے کھڑکی کھولی۔)
They discussed the problem. (انہوں نے مسئلے پر بات کی۔)
توصیفی جز
توصیفی جز کسی دوسرے جز کے بارے میں مزید معلومات دیتا ہے۔
the new student (نیا طالب علم)
Daniel’s old phone (ڈینیئل کا پرانا فون)
the book on the table (میز پر رکھی ہوئی کتاب)
توصیفی جز ایک لفظ بھی ہو سکتا ہے اور کئی الفاظ کی ترکیب بھی۔
ظرفی جز
ظرفی جز وقت، جگہ، انداز، وجہ یا مقصد جیسے حالات کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔
Sarah called yesterday. (سارہ نے گزشتہ کل فون کیا۔)
They met in Budapest. (ان کی ملاقات بڈاپسٹ میں ہوئی۔)
Daniel answered carefully. (ڈینیئل نے احتیاط سے جواب دیا۔)
We stayed home because it was raining. (ہم گھر پر رہے کیونکہ بارش ہو رہی تھی۔)
ایک اہم بات یہ ہے کہ ظرفی جز کا متعلقِ فعل ہونا ضروری نہیں۔
موازنہ کریں:
Sarah called yesterday. (سارہ نے گزشتہ کل فون کیا۔)
Sarah called after lunch. (سارہ نے دوپہر کے کھانے کے بعد فون کیا۔)
Sarah called last week. (سارہ نے گزشتہ ہفتے فون کیا۔)
ان عبارتوں کی گرامری ساختیں مختلف ہیں:
- yesterday متعلقِ فعل ہے؛
- after lunch حرفِ جار والی ترکیب ہے؛
- last week اسمی ترکیب ہے۔
لیکن تینوں جملے میں ملتا جلتا کردار ادا کرتی ہیں: یہ بتاتی ہیں کہ سارہ نے کب فون کیا۔
ایک ہی قسم کا لفظ مختلف کام کر سکتا ہے
Daniel نام پر غور کریں:
Daniel called Sarah. (ڈینیئل نے سارہ کو فون کیا۔)
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
Sarah spoke to Daniel. (سارہ نے ڈینیئل سے بات کی۔)
This is Daniel’s book. (یہ ڈینیئل کی کتاب ہے۔)
ہر جملے میں Daniel اسمِ خاص ہے۔
لیکن اس کا کردار بدل جاتا ہے:
- فاعل؛
- مفعول؛
- حرفِ جار والی ترکیب کا حصہ؛
- مالک۔
یہی بنیادی خیال ہے:
اجزائے کلام کی قسم بتاتی ہے کہ کوئی لفظ کس نوعیت کا جز ہے۔ جملے میں اس کا کردار بتاتا ہے کہ وہ یہاں کیا کام کر رہا ہے۔
یہی اصول صفتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
the tired student (تھکا ہوا طالب علم)
The student is tired. (طالب علم تھکا ہوا ہے۔)
دونوں مثالوں میں tired صفت ہے۔
پہلی مثال میں یہ student نامی اسم کی وضاحت کرتی ہے۔
دوسری میں یہ طالب علم کے بارے میں کہی جانے والی بات کو تشکیل دینے میں مدد دیتی ہے۔
لفظ کی قسم وہی رہتی ہے، لیکن جملے کی ساخت میں اس کی جگہ بدل جاتی ہے۔
کبھی کبھی لفظ کی قسم بھی بدل سکتی ہے
انگریزی میں یہ فرق کچھ اور دلچسپ ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک ہی طرح لکھا جانے والا لفظ کبھی مختلف لفظی اقسام سے تعلق رکھ سکتا ہے۔
call پر غور کریں:
I received a call. (مجھے ایک فون کال آئی۔)
Please call me. (براہِ کرم مجھے فون کریں۔)
پہلے جملے میں call اسم ہے۔
دوسرے میں یہ فعل ہے۔
یا email کو دیکھیں:
I sent an email. (میں نے ایک ای میل بھیجی۔)
Please email the document. (براہِ کرم دستاویز ای میل کر دیں۔)
یا clean کو:
a clean room (ایک صاف کمرہ)
Please clean the room. (براہِ کرم کمرہ صاف کر دیں۔)
انگریزی میں الفاظ اکثر کوئی ظاہری لاحقہ لگائے بغیر اپنی قسم بدل سکتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ کبھی ”یہ لفظ اجزائے کلام کی کس قسم سے تعلق رکھتا ہے؟“ جیسے سوال کا جواب دینے کے لیے بھی مزید سیاق و سباق درکار ہوتا ہے۔
اس سے بہتر سوال یہ ہے:
یہ لفظ اس جملے میں کس طرح استعمال ہو رہا ہے؟
ہمیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے؟
جب ہم لفظ کی قسم اور جملے میں اس کے کردار کا فرق سمجھ لیتے ہیں، تو ایک اور سوال سامنے آتا ہے:
کوئی زبان کیسے بتاتی ہے کہ واقعے میں شامل کون سا فرد یا جز فاعل، مفعول، وصول کنندہ یا کسی اور کردار میں ہے؟
زبانوں کے پاس اس کے لیے کئی ذرائع ہوتے ہیں:
- الفاظ کی ترتیب؛
- الفاظ کے ساتھ لگنے والے لاحقے؛
- اسم سے پہلے یا بعد میں آنے والے حروفِ جار؛
- نحوی ذرات؛
- فعل میں تبدیلیاں؛
- ضمیروں کی شکلیں؛
- جملوں کی مخصوص ساختیں؛
- معنی اور سیاق و سباق۔
زیادہ تر زبانیں ان میں سے کئی اشارے ایک ساتھ استعمال کرتی ہیں۔
لیکن یہ سب کام کو ایک ہی طرح تقسیم نہیں کرتیں۔
انگریزی: لفظ کی جگہ خاص اہمیت رکھتی ہے
انگریزی میں عموماً یہ ترتیب استعمال ہوتی ہے:
فاعل – فعل – مفعول
موازنہ کریں:
Sarah called Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
Daniel called Sarah. (ڈینیئل نے سارہ کو فون کیا۔)
ناموں کی شکل نہیں بدلتی۔ ان کی جگہ بتاتی ہے کہ کس نے کسے فون کیا۔
تاہم، انگریزی صرف الفاظ کی ترتیب پر منحصر نہیں۔
ضمیریں بھی اشارے فراہم کرتی ہیں:
She called him. (اس عورت نے اس مرد کو فون کیا۔)
He called her. (اس مرد نے اس عورت کو فون کیا۔)
اور جملوں کی ساخت بدلی بھی جا سکتی ہے:
Sarah encouraged Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کی حوصلہ افزائی کی۔)
Daniel was encouraged by Sarah. (سارہ کی طرف سے ڈینیئل کی حوصلہ افزائی کی گئی۔)
دوسرے انگریزی جملے میں Daniel نحوی فاعل بن جاتا ہے، حالانکہ حوصلہ افزائی اب بھی اسی کی ہو رہی ہے۔
انگریزی میں الفاظ کی ترتیب بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن یہ ضمیروں، امدادی افعال، حروفِ جار اور جملے کی ساخت کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
فرانسیسی اور ہسپانوی: مانوس ترتیبیں، مگر اہم فرق بھی
فرانسیسی اور ہسپانوی میں عام طور پر انگریزی جیسی بنیادی فاعل–فعل–مفعول (SVO) ترتیب استعمال ہوتی ہے۔
فرانسیسی:
Sarah appelle Daniel. (سارہ ڈینیئل کو فون کر رہی ہے۔)
ہسپانوی:
Sara llamó a Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
لیکن دونوں زبانیں کچھ دوسرے اشارے بھی استعمال کرتی ہیں۔
فرانسیسی میں مفعولی ضمیریں عموماً فعل سے پہلے آتی ہیں:
Sarah **l’**appelle.
”سارہ اسے فون کر رہی ہے۔“
ہسپانوی میں فعل کا لاحقہ اکثر فاعل کے بارے میں معلومات دیتا ہے:
Llamé a Daniel.
”میں نے ڈینیئل کو فون کیا۔“
اس ہسپانوی جملے میں ”میں“ کے لیے الگ لفظ ضروری نہیں، کیونکہ فعل کی شکل پہلے ہی یہ معلومات فراہم کر دیتی ہے۔
ہسپانوی میں کسی مخصوص انسان کو ظاہر کرنے والے مفعول سے پہلے عموماً a بھی لگایا جاتا ہے:
Sara llamó a Daniel. (سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔)
یوں ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھنے والی یورپی زبانیں بھی ایک جیسی معلومات کو بالکل ایک ہی طرح منظم نہیں کرتیں۔
جرمن: الفاظ کی ترتیب اور اعرابی حالت، دونوں اہم ہیں
جرمن کو دیکھ کر انگریزی اور زیادہ وسیع اعرابی نظام رکھنے والی زبانوں کے درمیان تعلق سمجھنا آسان ہوتا ہے۔
ان حروفِ تعریف کا موازنہ کریں:
der Mann
den Mann
حرفِ تعریف کی شکل یہ بتانے میں مدد دے سکتی ہے کہ اسمی ترکیب فاعل کے طور پر کام کر رہی ہے یا مفعول کے طور پر۔
جرمن میں فعل کی جگہ کے بارے میں بھی سخت اصول ہیں، خاص طور پر مرکزی اور ماتحت جملوں میں۔
اس کا مطلب ہے کہ جرمن سیکھنے والوں کو ان دونوں باتوں پر توجہ دینی چاہیے:
- جملے کے اجزا کی جگہ؛
- حروفِ تعریف و تنکیر، ضمیروں اور کبھی اسموں یا صفتوں میں ہونے والی تبدیلیاں۔
جرمن لفظوں کی جگہ پر اتنا انحصار نہیں کرتی جتنا انگریزی، لیکن اس میں بھی الفاظ کی ترتیب من مانی نہیں ہوتی۔
ہنگری اور روسی: لاحقے زیادہ معلومات دیتے ہیں
ہنگری اور روسی میں اعرابی حالت کی نشان دہی انگریزی سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتی ہے۔
ہنگری میں مفعولِ مستقیم کی نشان دہی عموماً -t سے کی جاتی ہے:
Sarah felhívta Danielt.
”سارہ نے ڈینیئل کو فون کیا۔“
چونکہ لاحقہ Daniel کو مفعول کے طور پر نشان زد کرتا ہے، اس لیے اس ترکیب کو دوسری جگہ رکھنے سے وہ فاعل نہیں بن جاتی۔
البتہ نئی ترتیب زور کا رخ بدل سکتی ہے۔
کوئی جملہ ان باتوں کو نمایاں کر سکتا ہے:
- کام کس نے کیا؛
- اس کا اثر کس پر پڑا؛
- کون سی معلومات نئی ہیں؛
- کن چیزوں کے درمیان فرق نمایاں کیا جا رہا ہے۔
روسی میں بھی اعرابی حالت کے مطابق اسموں، ضمیروں اور صفتوں کی شکلیں بدلتی ہیں۔
اس سے الفاظ کی ترتیب میں انگریزی کے مقابلے میں زیادہ تبدیلی ممکن ہوتی ہے، لیکن روسی میں ترتیب پھر بھی یہ بتاتی ہے کہ توجہ کس بات پر ہے اور معلومات کس طرح پیش کی جا رہی ہیں۔
اس لیے یہ کہنا بہتر ہے کہ ہنگری اور روسی میں الفاظ کی ترتیب زیادہ لچک دار ہے، نہ کہ مکمل طور پر آزاد۔
لاحقے بہت سے نحوی تعلقات واضح کرتے ہیں، جبکہ ترتیب اکثر پیغام کو ایک خاص انداز دینے میں مدد کرتی ہے۔
مینڈارن چینی: کم لاحقے، ترتیب اور سیاق و سباق کا زیادہ کام
مینڈارن چینی میں الفاظ کی صرفی تبدیلی نسبتاً کم ہوتی ہے۔
فعل عموماً فاعل کے شخص کے مطابق نہیں بدلتے، اور اسموں میں روسی یا ہنگری جیسا اعرابی نظام نہیں ہوتا۔
عام بنیادی ترتیب SVO ہے:
فاعل – فعل – مفعول
اسی لیے لفظ کی جگہ ایک اہم اشارہ ہوتی ہے۔
لیکن مینڈارن محض ایسے الفاظ کی قطار نہیں جن کی شکل اور جگہ کبھی نہ بدلے۔
اس میں یہ ذرائع بھی استعمال ہوتے ہیں:
- نحوی ذرات؛
- فعل کے پہلو کی علامات؛
- موضوعِ گفتگو پر مبنی ساختیں؛
- اشیا کی قسم بتانے والے شمار کے الفاظ؛
- مخصوص ساختیں؛
- سیاق و سباق۔
جملہ کسی ایسے موضوعِ گفتگو سے شروع ہو سکتا ہے جو نحوی فاعل نہ ہو۔ بعض ساختوں میں مفعول مرکزی فعل سے پہلے بھی آ سکتا ہے۔
مینڈارن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی زبان میں الفاظ کی صرفی تبدیلی کم ہونے کے باوجود اس کی گرامر بھرپور اور نہایت منظم ہو سکتی ہے۔
جاپانی اور کوریائی: اسمی ترکیبوں کے بعد چھوٹی علامات
جاپانی اور کوریائی میں فعل عام طور پر جملے کے آخر کے قریب آتا ہے۔
ان کی عام ترتیب یہ ہے:
فاعل – مفعول – فعل
دونوں زبانوں میں اسمی ترکیبوں کے بعد چھوٹے اجزا آتے ہیں جو ان کے کردار پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔
مثلاً جاپانی میں:
- -ga عموماً فاعل سے متعلق ترکیب کی نشان دہی کرتا ہے؛
- -o عموماً مفعولِ مستقیم کی نشان دہی کرتا ہے؛
- -wa اکثر موضوعِ گفتگو یا کسی تقابل کی نشان دہی کرتا ہے۔
ایک سادہ مثال یہ ہے:
Sara-ga Daniel-o hometa.
”سارہ نے ڈینیئل کی تعریف کی۔“
یہ علامات واضح کرنے میں مدد دیتی ہیں کہ کون سا نام کس کردار میں ہے۔
کوریائی میں بھی فاعل، مفعول اور موضوعِ گفتگو کے لیے ملتی جلتی علامات ہیں۔
تاہم، بے تکلف گفتگو میں کبھی یہ علامات چھوڑ بھی دی جاتی ہیں، بشرطیکہ مراد واضح ہو۔ تب سننے والے سیاق و سباق، الفاظ کی ترتیب اور مشترکہ معلومات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
موضوعِ گفتگو بھی ہمیشہ فاعل ہی نہیں ہوتا۔ دونوں زبانوں میں یہ ایک اہم بات ہے۔
عربی: زبان کا ایک نام، گرامر کی کئی صورتیں
عربی کے بارے میں کچھ احتیاط ضروری ہے، کیونکہ رسمی تحریری عربی اور روزمرہ بول چال کی مختلف صورتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔
رسمی عربی یہ ذرائع استعمال کر سکتی ہے:
- الفاظ کی ترتیب؛
- فعل کی مطابقت؛
- ضمیروں کی شکلیں؛
- حروفِ جار؛
- خاص طور پر محتاط یا مکمل اعراب والی زبان میں اعرابی لاحقے۔
فعل–فاعل–مفعول اور فاعل–فعل–مفعول، دونوں ترتیبیں ممکن ہیں۔
عام تحریر میں مختصر مصوتوں کی علامات عموماً نہیں لکھی جاتیں، اس لیے اعرابی حالت کے بہت سے ظاہری فرق بھی نظر نہیں آتے۔
روزمرہ بول چال کی عربی کی مختلف صورتوں میں پرانا اعرابی لاحقوں کا نظام بھی بہت کم نمایاں ہے یا بڑی حد تک موجود ہی نہیں۔
اس لیے ”عربی فاعل اور مفعول کی نشان دہی کیسے کرتی ہے؟“ کا کوئی ایک سادہ جواب نہیں۔ جواب کا انحصار کسی حد تک اس بات پر ہے کہ ہماری مراد عربی کی کون سی صورت ہے۔
ہندی: اسموں کے بعد آنے والی علامات
ہندی میں فعل عموماً آخر میں آتا ہے، اور اکثر اسموں کے بعد ایسے اجزا استعمال ہوتے ہیں جنہیں اسم کے بعد آنے والے حروف، یعنی postpositions، کہا جاتا ہے۔
انگریزی میں کہا جاتا ہے:
with Daniel (ڈینیئل کے ساتھ)
ہندی میں عام ترتیب یہ ہوتی ہے:
Daniel with (یعنی پہلے ڈینیئل، پھر ”کے ساتھ“)
بعض علامات وصول کنندہ، مخصوص مفعول یا ماضی کی مخصوص ساختوں میں فاعل جیسا کردار ادا کرنے والے فرد کی نشان دہی بھی کر سکتی ہیں۔
لیکن یہ علامات ہر جملے میں خودکار طور پر نہیں لگتیں۔ ان کا استعمال کئی باتوں پر منحصر ہوتا ہے، مثلاً:
- متعلقہ فرد یا جز انسان ہے یا نہیں؛
- وہ مخصوص ہے یا پہلے سے معلوم ہے؛
- فعل کی قسم کیا ہے؛
- واقعے کو مکمل شدہ سمجھا جا رہا ہے یا نہیں۔
ہندی یہ بات اچھی طرح یاد دلاتی ہے کہ ہر زمانے اور ہر ساخت میں نحوی کرداروں کی نشان دہی لازماً ایک ہی طرح نہیں ہوتی۔
زبانیں کام کو مختلف طریقوں سے تقسیم کرتی ہیں
زبانوں کو سادہ جوڑوں میں تقسیم کرنا آسان لگ سکتا ہے:
- الفاظ کی ترتیب پر منحصر زبانیں، بمقابلہ اعرابی حالت پر منحصر زبانیں؛
- سخت ترتیب والی زبانیں، بمقابلہ آزاد ترتیب والی زبانیں؛
- آسان زبانیں، بمقابلہ پیچیدہ زبانیں۔
حقیقت اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔
انگریزی میں بہت سا کام لفظوں کی جگہ سے لیا جاتا ہے۔
ہنگری اور روسی میں اسموں کی شکلیں زیادہ معلومات دیتی ہیں۔
ہسپانوی میں یہ کام الفاظ کی ترتیب، فعل کے لاحقوں، ضمیروں اور مفعول کی نشان دہی کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔
جرمن الفاظ کی ترتیب اور اعرابی حالت، دونوں استعمال کرتی ہے۔
مینڈارن لفظوں کی جگہ، مخصوص ساختوں، نحوی ذرات اور سیاق و سباق پر انحصار کرتی ہے۔
جاپانی اور کوریائی میں نحوی علامات اکثر اسموں کے بعد آتی ہیں۔
عربی میں اس کی صورت اور سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف ذرائع مل کر کام کرتے ہیں۔
کوئی زبان صرف ایک اشارہ استعمال نہیں کرتی۔
یہ سب معلومات کو مختلف طریقوں سے تقسیم کر کے اظہار و ابلاغ کے ملتے جلتے مسائل حل کرتی ہیں۔
زبان سیکھنے والوں کو کن باتوں پر توجہ دینی چاہیے؟
جب آپ کوئی نئی زبان پڑھیں یا سنیں، تو صرف الگ الگ الفاظ اور ان کے معنی پر توجہ نہ دیں۔
ساخت کے بارے میں بھی چند سوال پوچھیں۔
یہ کس قسم کا جز ہے؟
کیا یہ اسم، فعل، صفت، ضمیر، حرفِ جار یا کسی اور قسم کا لفظ ہے؟
یہ یہاں کیا کردار ادا کرتا ہے؟
کیا یہ فاعل، مفعول، کسی کی کیفیت کا بیان، توصیفی جز، وصول کنندہ، یا وقت اور جگہ کے بارے میں معلومات ہے؟
اس کردار کا اشارہ کس چیز سے ملتا ہے؟
ان باتوں پر غور کریں:
- لفظ کی جگہ؛
- لاحقے؛
- حروفِ تعریف و تنکیر؛
- ضمیروں کی شکلیں؛
- نحوی ذرات؛
- اسم سے پہلے یا بعد میں آنے والے حروفِ جار؛
- فعل میں تبدیلیاں؛
- آس پاس کا سیاق و سباق۔
کیا جملہ عام انداز میں بات بتا رہا ہے یا کسی چیز پر زور دے رہا ہے؟
ترتیب بدلنے سے شاید یہ نہ بدلے کہ کس نے کیا کیا، لیکن یہ بدل سکتا ہے کہ بولنے والا کس بات کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔
لچک دار ترتیب والی زبانوں میں یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے۔
بنیادی خیال
جب ہم دو سوال الگ کر لیتے ہیں تو گرامر کہیں زیادہ آسان ہو جاتی ہے:
یہ کس قسم کا لفظ یا ترکیب ہے؟
اور:
یہ اس جملے میں کیا کام کر رہا ہے؟
ہر اسم لازماً فاعل نہیں ہوتا۔
فاعل ہمیشہ جان بوجھ کر کام کرنے والا نہیں ہوتا۔
صفت صرف اسموں سے پہلے ہی نہیں آتی۔
جملے میں ایک ہی کردار مختلف قسم کی ترکیبوں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔
اور سب زبانیں یہ بتانے کے لیے ایک جیسے اشارے استعمال نہیں کرتیں کہ کس نے کس کے ساتھ کیا کیا۔
جب ہم گرامر کو اقسام، کرداروں اور اشاروں کے ایک نظام کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں، تو یہ من مانے اصولوں کی ایک لمبی فہرست جیسی کم محسوس ہوتی ہے۔
زبانیں مختلف ہیں، مگر جن سوالوں کے جواب انہیں دینے ہوتے ہیں، وہ حیرت انگیز طور پر ملتے جلتے ہیں۔
مزید گہرائی میں جانیں
یہ مضمون بنیادی خیالات سمجھنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان فرقوں کی مکمل تفصیل میں مزید باریکیاں ہیں، خاص طور پر جب ہم بہت مختلف نحوی نظام رکھنے والی زبانوں کا موازنہ کرتے ہیں۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری سلسلہ وار تحریروں کا پہلا حصہ پڑھیں:
اس میں الفاظ کی اقسام، جملے میں ان کے کام، خبر، تکملوں، معنوی کرداروں اور انگریزی کی نحوی اقسام کو براہِ راست ہر زبان پر لاگو کرنے کی حدود کا جائزہ لیا گیا ہے۔